Translate

The status and reality of love

 اللّٰہ تبارک وتعالیٰ نے جب خلوص اور اپنائیت کو بنایا تو اسے محبت کانام دیا،انسان کی مٹی میں اس جذبے کا خمیر بھی ملایاہم انسانوں نے بھی اس جذبے سے انسانیت کا پرچار کیا اور رب العالمین نے اس جذبے کی مثال کے لئے ماں کو پیدا کیا اپنی ہر صفات میں سے تھوڑا سا ماں کودیاماں کے بطن سے جب انسان نے جنم لیا تو وہ ماں کے بطن سے ہی محبت کی مثبت ریڈی ایشن اپنے ساتھ لایا، اور یوں رب سے محبت کرنا سیکھا ہم نے جی ہاںماں تو سکھاتی ہے ربّ العزت کی محبت،ماں کی ممتا اور اس کی آغوش میں ہی انسان رب العالمین کی یکتایت سیکھتا ہے۔انسان جب تک ماں کی ممتا کی آغوش میں رہتا ہے مثبت سوچ کی کرنوں کےزیر اثر رہتا ہےلیکن جیسے ہی انسان دنیا کی جانب رجوع کرتاہے منفی اثرات مرتب ہونے لگتے ہیں شیطانیت کے اثرات بھی اس پر اثر کرنے لگتے ہیںیہی اثرات خلوت اور پھر جلوت میں اپنا اثر دکھاتے ہیں،تو وہ دنیاوی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے بیتاب ہو جاتا ہےاور پھر اس نے اس منفی ریڈی ایشن سے ایک لفظ سیکھا "عشق"

اور اس کا ہر معملات میں اتنا پرچار کیا کہ اسے مذہبی رنگ میں بھی دیکھا جانے لگا۔حقیقت تو اس کے برعکس ہے،آپ غور کر لیں اس منفی لفظ کی سوچ بھی منفی ہی رہے گی چاہے اسے کوئی بھی لبادہ اوڑھا دیں،جبکہ محبت (حب) ایک الہامی لفظ ہے اس کے اثرات بھی ہمیشہ مثبت رہتے ہیں، محبت میں خلوص کی مٹھاس،اپنایت کا رنگ،احساس کی تراوٹ، درد کی لگاوٹ،بھری ہوتی ہےعشق کے مزاج میں ہمیشہ خلوت کے رنگ نمایاں ہوتے ہیں ،اس کا ناتا خالق سے زبردستی استوار کیا جاتا ہے ،خالق نے محبت اور پیار کے رنگ بکھیرےعشق کی فطرت کہ اخیر میں صرف اور صرف لذت اور سرور بھرا ذاتی عناد بھرا ہے نفسانی خواہشات کا اثرورسوخ بھرا ہے"محبت" پاکیزہ جذبہ ہے اس کی سوچ اور احساس بھی پاکیزہ ہے،جو ہمیں رب العالمین نے عطا کیا ہے ۔اس کی دوسری تصویر دوستی میں پنہاں ہے۔۔                                                            جب ہم سچائی کے طالب ہیں تو پھر ہر لفظ اور اس کے اثر میں سچائی ہی نظر آنی چاہیے ،جب سوچ اور نظریہ میں سچائی اور پاکیزگی ہوگی ،تو تب ہی ہمیں حقیقی اور درستگی کا سچا رنگ نظر آئے گا۔قرآن کریم میں محبت کا ذکر تو ہے لیکن عشق کا کوئی تصور نہیں ہےمحبت میں خلوص ہے رحم و کرم ہے اپنائیت اور انسانیت ہےعشق کے مزاج میں جنون ہے وحشت ہے پاگل پن ہے دیوانگی ہے،جب لفظ کی سوچ اور نظریہ میں اثرات میں اتنا فرق ہے تو ،بتائیےجب لفظ عشق کے اثرات ہی منفی ہیں ،تو یہ مثبت کیسے ہوسکتا ہے؟جب عشق کے اثرات انسان کو وحشی،دیوانہ،پاگل، جنونی بنادیتے ہیں تو یہ لفظ پرودگار کی ترجمانی کیسے کر سکتا ہے؟۔                                                            اللّٰہ تبارک وتعالی نے محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو محبوب کہہ کر پکارا،خود خالق دوجہاں محب ہے اور محب ومحبوب میں حُب ہے۔جب اللّٰہ تعالی نے اس جذبے کیساتھ دنیا میں انسان کو بھیجا (آدم علیہ السلام و بی بی حوا)تو انہیں محبت دیکر بھیجا ،اک پاکیزہ رشتہ کی ڈور سے باندھ کر بھیجا۔پھر انسان کی صنف عورت کو ماں اور مرد کو باپ بنایا تو یہ جذبہ محبت انہیں دیا،اولاد کی محبت میں ہر درد سہہ جاتے ہیں۔محبت ہے تو خلوص،احساس،درد، جانثاری توجہ فکر سب کچھ ہےمحبت کاہر رشتہ ہر ناتہ سچائی پر مبنی ہےعشق کا ہر ناتہ ہر جذبہ جھوٹ اور نجس ہےمثال کے طور پر؛

بیوی اپنے شوہر کی محبت کی نشانی اولاد پر اپنی ممتا اپنی محبت نچھاور کردیتی ہےجبکہ عشق کی کارستانی سے پیدا ہونے والی اولاد کو یا تو کچرے میں پھینک دیتی ہے یا مار ڈالتی ہے مگر سینے سے نہیں لگاتی۔                                                  اپنی گفتگو کو یہیں سمیٹتے ہوئے بس اتنی گذارش کرتی ہوں کہ ؛ 

صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط قرار دینا چاہیے یہی سچے مسلمان کی ادا ہے ،یہی تقاضہٕ ایمان ہے۔

1 comment:

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *