مجھے سن کبھی
میرے پاس بیٹھ ،۔
سن خاموشی کی زبان۔
بے زبان لفظوں کی
سرگوشیاں !!!!!
لفظ ہولے سے
چپکے سے
دھیمے دھیمے
اپنے آپ کو
بیان کرتے ہیں
آنکھوں میں تیرتے
پانی کی زبان سے
کبھی کبھی تو
لب خاموش رہ کر بھی
سارے الفاظ
سماعت گزار
کرتے ہیں
سننا کبھی !!!!
تم محسوس تو کرنا،
ہوا کے دوش پہ
سوار ہوکر ،
بڑی سندرتا سے
خود کو پہنچاتے ہیں
بس تم ،،،
دروازہ کھلا رکھنا
اچھا ایسا کرنا ،
کھڑکی کھلی رکھنا
دیکھنا کبھی!
محسوس کرنا کبھی
سوچنا کبھی
ڈھونڈ لینا !!!!!!!
Ab se hm to khamosh hain
ReplyDelete