پھر ہے وہی
سرد اداس راتوں
سرگوشی ہوا کی
یا پھر زرد قالین
کا ہے یہ شور
دھواں دھواں سے
موسم سرما میں
زرد لبادہ اوڑھے
سبزہ زاروں میں
پھرتا ہے کوئی
من کی ویرانیاں لئے
ہوا کی سرد مہری
کرتی ہے بیان
اندر کا موسم
ٹنڈ منڈ ڈالیاں
ڈھونڈتی ہیں
!!!پیرھن اپنا
زمین اوڑھے لیٹی
دوشالہ زرد پتوں کا
وہ سبزہ زاروں
کی شوخی اور
ڈالیوں کا بانکپن
الجھ گیا کہیں
خزاں کی سرد
!!!!رتوں سے
شمائلہ خان
No comments:
Post a Comment