Translate

The hope of spring

 پگڈنڈی سے گزرتا

پیڑوں کے نیچے

سے گزرتا ،

زرد قالین کو

پیروں تلے کچلتا

چلا جاتا ہوں میں ،

جوتوں کے نیچے

جب سوکھے زرد

پتوں کا لبادہ

اوڑھے لیٹی دھرتی

راگنی نئی سناتی 

جسے سن کر ،

میلوں دور تک 

پھیلے بنا پتوں

کے درخت ، 

اپنا سر جھٹک کر

خشک ہوا کے سنگ

اک  آھ  بھرکے،

اک دوجے کو

دلاسا دیتے ہوئے

اگلی بہار کی

آمد کا !!!!

اپنی سوکھی شاخیں

پھیلائے رکھتے 

اور 

زرد قالین ،

 سوکھی شاخیں

سب کو

گل داؤدی گیت 

سناتا ہے

سب جینے کی

امنگ جگاتا ہے

سب کھو کر

بھی مسکراتا ہے

سوکھی ڈالیوں پر

بنا مرغابیوں کے

خالی گھونسلے

کا برفیلے موسم

میں بھی سنبھال

رکھتا ہے

امید ان کے پلٹنے کی

زندہ رکھتا ہے

1 comment:

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *