وقت کے کاری وار
لگے روح پر
تھے وہ گھاؤ بڑے
اور جو لگے دل پر
وہ تھے داؤ بڑے
سہنا تھا جنہیں ذرا مشکل
جھیلے وہ سب داؤ مگر
ہائے رے پر رہ نا سکے
جو تیر گڑے کلیجے پر
چھلنی چھلنی جگر ہوا
کھینچا جو زخموں سے تیر
تو کوئی نا شور ہوا
آھ بھری ، فریاد کی
لہو چھلکا آنکھوں سے
پھر بھی لب چپ رہے
پنجرہ توڑے روح چلی
میت اٹھی تھی دھوم سے
لئے چلے حوالے خاک کے کرنے
خاک ملا کر چل دیئے خاک میں
بھولی بسری یادیں بنے ہوئے
رہ جائیں گے بس جگ میں
شمائلہ خان
Boht khoob
ReplyDelete