Translate

inside the mind

 کتابیں پڑھتے

چائے پیتے

تیرے خیال 

میں گم

ہم بھیگ

رہے تھے 

اپنی بارش

میں !!!!

کھڑکی سے 

دیکھا جو 

برستے پانی

کو ،،!!؛

بادلوں کا

گرجنا اور

بجلی کا کڑکنا

لگتا ہے کہ

جیسے کہیں !!!

اندر بہت اندر

کوئی طوفان 

بسا ہو من اندر

شمائلہ خان 

3 comments:

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *