کبھی عیاں
کبھی نہاں
کبھی اس نگر
کبھی اس ڈگر
یہ جو راز ہیں
سرِ لامکان!!!؛
انہیں کھوجتی
پھروں
کبھی یہاں
تو
کبھی وہاں
یہی سوچ کر
میں نکل پڑی
اس سفر کی
خاک میں ملا
کر میں وجود
جو مل سکے تو
پھر بنا سکوں
میں مکاں اپنا
کبھی دھول
میں خود کو
ملا لیا؛؛؛!!
کبھی اپنا
آپ مٹا دیا
کبھی بےخودی
کبھی بے کلی
کبھی دھوپ
تو کبھی چھاؤں
کبھی ریگزار
تو کبھی انگار
کبھی دشت میں
کبھی بحر میں
مجھے جہاں لگا
میں وہیں چلی
کبھی روند ڈالا
آپ اپنا
کبھی خود کو
تنہا چھوڑ دیا
دھونی رما کر
نکل پڑی
بھٹک کر تو
کبھی سنبھل کر
کھوجتی چلی
اس راہ پر
اس مقام
کی تلاش میں
شمائلہ خان
Nice
ReplyDeleteVery nice
ReplyDeleteWao so nice yar good 👍
ReplyDelete