Translate

The quest

 کبھی عیاں 

کبھی نہاں 

کبھی اس نگر 

کبھی اس ڈگر

یہ جو راز ہیں 

سرِ لامکان!!!؛

انہیں کھوجتی

پھروں

کبھی یہاں

تو

کبھی وہاں

یہی سوچ کر 

میں نکل پڑی

اس سفر کی

خاک میں ملا 

کر میں وجود 

جو مل سکے تو

پھر بنا سکوں 

میں مکاں اپنا

کبھی دھول

میں خود کو 

ملا لیا؛؛؛!!

کبھی اپنا

آپ مٹا دیا

کبھی بےخودی

کبھی بے کلی

کبھی دھوپ 

تو کبھی چھاؤں

کبھی ریگزار

تو کبھی انگار

کبھی دشت میں 

کبھی بحر میں

مجھے جہاں لگا

میں وہیں چلی

کبھی روند ڈالا

آپ اپنا

کبھی خود کو

تنہا چھوڑ دیا 

دھونی رما کر

نکل پڑی 

بھٹک کر تو

کبھی سنبھل کر

کھوجتی چلی

اس راہ پر 

اس مقام 

کی تلاش میں 


شمائلہ خان

3 comments:

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *