چلو آؤ !!!؛
کچھ باتیں کرتے ہیں
آنکھوں کے استعارے
تیرے حوالے کرتے ہیں
کچھ مصروفیت رہیں
کچھ فرصت نہیں رہیں
کچھ فراغت نہیں رہیں
کچھ تجھ سے کہی باتیں
کچھ تجھ سے جڑی یادیں
کچھ تجھ سے سجی خلوتیں
آؤ انہیں اپنے ؛؛؛؛
دل کے نہاں خانوں میں
کہیں آباد رکھتے ہیں
تیری نگاہوں سے
جب جلتی تھی
میری تنہائی
آؤ انہیں تنہایوں میں
کھوئے وجود کو تلاشیں
ڈھونڈیں تجھے ،نگاہیں
میری ادھوری باتیں
استعارے میری ، آنکھیں
تیری یادیں
تیری نگاہیں
میری تنہائی
میری خواہشیں
تیری جدائی
میری سلگتی
میری تڑپتی
میری مچلتی
میری سسکتی
آنکھیں !!!!!!!!!!
تجھے تلاشتی
کھوجتی ، پکارتی
ڈھونڈتی ہیں
تم جو کہیں
اوڑھ کر ؛؛؛؛
چادر خاک کی
سوگئے ، کہیں
چھوڑ کر ہمیں
شمائلہ خان
Waaao waaao super
ReplyDelete🙏
ReplyDelete