یادوں کے سائے ہیں جو چھا گئے
دل کی گلیوں میں وہ سما گئے
کچھ لمحے تھے جو چُھو گئے
اور پھر ہمیشہ کے لیے رُو گئے
وہ کہانیاں جو ادھوری رہ گئیں
وہ خواب جو آنکھوں میں بکھر گئے
ہر اک خوشبو، ہر اک صدا
اب تک میرے دل کو چُھوتی ہے جیسے
رات کے سناٹے میں جب ستارے بولتے ہیں
یادوں کے دریا میں دل ڈوبتا ہے
وہ لمحے، وہ مسکراہٹیں، وہ باتیں
اب تک میرے دل کو سناتی ہیں
کبھی کبھی لگتا ہے وہ دور نہیں
کہیں قریب ہی ہیں، بس چُھپ گئے
یادوں کے سائے ہیں جو ساتھ چلتے ہیں
ان کے بغیر دل اداس رہتا ہے
زمانہ بدل گیا، مگر دل نہیں
وہی داستاں، وہی خواہش باقی ہے
یادوں کے سائے ہیں جو ساتھ ہیں میرے
ان کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔
No comments:
Post a Comment