Translate

Evening, gray shadows

 شام کے سرمئی سائے  

چھا گئے ہیں دل کے ویرانے پر  

ہوا میں ایک سکوت ہے  

جیسے وقت نے سانس روک لی ہو  


جن درختوں کی شاخیں  

اک عجیب سی تھکاوٹ لیے ہوئے  

پتے گرتے ہیں  

ایک ایک کر کے  

جیسے خواب بکھر رہے ہوں  


آسمان پر بادل  

کسی غمگین موسیقی کی طرح  

دھیمے دھیمے بہتے ہیں  

سورج کی کرنیں  

مدھم ہوتی جا رہی ہیں  

جیسے کسی کی یاد مٹتی جا رہی ہو  


میں بیٹھی ہوں  

ایک کونے میں  

دل کے اندر  

کچھ بے نام سی خواہشیں  

کچھ اداس سے سوال  

کچھ بے جواب سے جواب  


شام کے سرمئی سائے  

میرے دل کے ساتھ ساتھ  

چلتے ہیں  

اور میں سوچتی ہوں  

کیا یہ سائے ہیں  

یا میرے اندر کا سناٹا  

جو باہر اتر آیا ہے  


ہوا چلتی ہے  

اور وقت کے پنکھے  

پھر سے چل پڑتے ہیں  

شام ڈھلتی ہے  

اور میں  

اک نئے سفر کی تیاری میں  

خاموشی سے کھڑی ہوں


شمائلہ خان

No comments:

Post a Comment

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *