Translate

Loneliness and me

 شام کی خاموشی میں،  

تنہائی کا سایہ پھیلتا ہے،  

جیسے کوئی پرانا گیت،  

دل کی گہرائیوں سے اُٹھتا ہے۔  


ہوا کے جھونکے،  

یادوں کے جال بن جاتے ہیں،  

ہر ایک چہرہ،  

ایک کہانی سناتا ہے۔  


شام کی سرخی،  

آہستہ آہستہ مٹتی جاتی ہے،  

جیسے خوابوں کی دنیا،  

حقیقت میں ڈھلتی جاتی ہے۔  


تنہائی،  

ایک ساتھی بن جاتی ہے،  

جو خاموشی سے سنتی ہے،  

ہر وہ بات جو کبھی کہی نہ گئی۔  


شام کے ستارے،  

تنہائی کے چراغ بن جاتے ہیں،  

اور اندھیرا،  

ایک نئی روشنی لے آتا ہے۔  


یہ شام، یہ تنہائی

دونوں مل کر ایک سفر بن جاتے ہیں،  

جہاں ہر قدم پر

خود کو پانے کا احساس ہوتا ہے۔  


شام ڈھلے گی، رات آئے گی

لیکن تنہائی کا ساتھ نہیں جائے گا 

کیونکہ یہ تو وہ آئینہ ہے

جس میں ہم اپنا چہرہ دیکھتے ہیں۔


شمائلہ خان 

No comments:

Post a Comment

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *