شام کی خاموشی میں،
تنہائی کا سایہ پھیلتا ہے،
جیسے کوئی پرانا گیت،
دل کی گہرائیوں سے اُٹھتا ہے۔
ہوا کے جھونکے،
یادوں کے جال بن جاتے ہیں،
ہر ایک چہرہ،
ایک کہانی سناتا ہے۔
شام کی سرخی،
آہستہ آہستہ مٹتی جاتی ہے،
جیسے خوابوں کی دنیا،
حقیقت میں ڈھلتی جاتی ہے۔
تنہائی،
ایک ساتھی بن جاتی ہے،
جو خاموشی سے سنتی ہے،
ہر وہ بات جو کبھی کہی نہ گئی۔
شام کے ستارے،
تنہائی کے چراغ بن جاتے ہیں،
اور اندھیرا،
ایک نئی روشنی لے آتا ہے۔
یہ شام، یہ تنہائی
دونوں مل کر ایک سفر بن جاتے ہیں،
جہاں ہر قدم پر
خود کو پانے کا احساس ہوتا ہے۔
شام ڈھلے گی، رات آئے گی
لیکن تنہائی کا ساتھ نہیں جائے گا
کیونکہ یہ تو وہ آئینہ ہے
جس میں ہم اپنا چہرہ دیکھتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment