چاندنی رات کی چاندنی**
چاندنی رات کی چاندنی، دل کو چُھو جائے،
ستاروں کی جھلمل، خواب سجائے۔
ہوا کے جھونکے، خوشبو لے کر آئے،
یہ راتِ دلنواز، ہر غم بھلائے۔
درختوں کے سائے، چپکے سے کہیں،
چاند کی روشنی، دل میں اتر جائے۔
یہ کیسا سکون ہے، کیسی تسلی،
جیسے دل کی گہرائیوں میں اتر جائے۔
یہ رات ہمیں یاد دلاتی ہے،
کہ ہر اندھیرے کے بعد اُجالا آئے۔
تو پھر کیوں ڈرے دل، چھوٹے سے غم سے،
جب چاندنی رات کی چاندنی ساتھ ہو جائے۔
No comments:
Post a Comment