کتنے بھولے ہو، ہر بات پر سوچتے ہو
یہ دل کی کیسی روش ہے، کیا کیا روچتے ہو
ہر لمحہ ایک سوال، ہر پل ایک الجھن
خود سے ہی کیوں نبرد آزما ہوچتے ہو
چھوڑو یہ فکر، یہ اندیشے، یہ وسوسے
کیوں اپنے آپ کو ہی بار بار ستاتے ہو
زندگی کو سادگی سے گزارنے کا ہنر سیکھو
یہ پیچیدہ راستے، یہ الجھنوں کے جال بناتے ہو
کھولو دل کا دروازہ، چھوڑ دو ہر خوف
کیوں اپنے ہی سائے سے ڈرتے ہو، لڑتے ہو
یہ وقت گزر جائے گا، یہ دن بھی بدل جائیں گے
ابھی سے کیوں مایوسی کے اندھیرے چھاتے ہو
غم کے بادل چھٹیں گے، پھر روشنی آئے گی
کیوں اپنے دل کو ہی تاریکی میں لتاتے ہو
جو گزر گیا، اسے بھول کر آگے بڑھو
کیوں ماضی کے سہارے، حال کو برباد کرتے ہو
یہ زندگی ہے، یہیں ہے، یہیں سے بنے گی
کیوں خیالوں کے جہان میں کھو کر پچھتاتے ہو
کتنے بھولے ہو، ہر بات پر سوچتے ہو
یہ دل کی کیسی روش ہے، کیا کیا روچتے ہو
No comments:
Post a Comment