یادوں کے دھندلکے میں تیری صورت ابھری
کھلتے ہوئے پھولوں سی تیری مہک تازہ ہوئی
دل کے اندھیروں میں چمک تیری یادوں کی سی
اک خواب سا لگتا ہے، جیسے تیرا ہونا
ہر لمحہ تیرے بغیر اداس سا لگتا ہے
جیسے بہاروں کے بعد خزاں کا سماں ہو جائے
تیرے ہونے کی خوشبو ہوا میں بسی رہتی ہے
اور تیرے جانے کے بعد یہ دل تڑپتا رہتا ہے
تیری باتوں کی مٹھاس اب بھی دل کو بھاتی ہے
تیرے چہرے کی رونق اب بھی آنکھوں میں چمکتی ہے
یادوں کے سائے میں تیرا وجود جھلکتا ہے
اور تیرے بغیر یہ دل اکثر تڑپتا ہے
تو دور ہو کے بھی قریب ہے میرے دل کے اندر
تیری یادوں کی چھاؤں میں میں کھو جاتا ہوں بار بار
اک عجب سا سکون ہے تیری یادوں کے ساتھ
تیرے بغیر بھی، تیرے ساتھ ہوں میں ہر بار۔
یہ دل تیرے لیے دھڑکتا ہے، تیری یادوں میں کھو جاتا ہے
تیرے بغیر یہ دنیا ادھوری سی لگتی ہے
تیری یاد آتی ہے، اور دل پھر سے جیتا ہے
تیرے ساتھ ہوں میں، چاہے دور ہی کیوں نہ ہوں۔
No comments:
Post a Comment