ہاں، ہم بھول جائیں گے تمہیں، یہ بھی ایک دن آئے گا
تمہاری یادوں کے سائے بھی دھندلائے جائیں گے
وہ لمحے، وہ باتیں، وہ مسکراہٹیں سب مٹ جائیں گی
تمہارے نام کے ساتھ دل کا رشتہ بھی کٹ جائے گا
تمہاری خوشبو بھی ہوا کے دوش پر اڑ جائے گی
تمہارے خواب بھی آنکھوں سے جیسے چھن جائیں گے
مگر ابھی تو ہم تمہیں بھولے نہیں، ابھی تو یاد ہے
تمہاری باتوں کا ذائقہ، تمہاری چاہت کا سماں
ہاں، ہم بھول جائیں گے تمہیں، مگر ابھی نہیں
ابھی تو تم ہو ہمارے دل میں، ابھی تو تم ہو ہمارے دم میں
شاید یہ وقت بھی گزر جائے، یہ درد بھی مٹ جائے
مگر تمہاری یادوں کا سفر ابھی تو ختم نہیں ہوا۔
No comments:
Post a Comment