تنہائی کی شام میں، چائے کا پیالہ تھام کر،
خاموشی کے سائے میں، دل کی بات سناتا ہوں۔
ہوا کے جھونکے آتے ہیں، پرانے قصے لاتے ہیں،
یادوں کے دریا میں، کھو جاتا ہوں، ڈوب جاتا ہوں۔
چائے کی خوشبو سے، لمحے بھر کو جی اٹھتا ہوں،
تنہائی کے اندھیرے میں، روشنی سی پاتا ہوں۔
ہر قطرہ چائے کا، ایک کہانی سناتا ہے،
دل کے زخموں پر، مرہم سا لگاتا ہے۔
شام ڈھلے، ستارے چمکیں، تنہائی گہری ہو،
چائے کے ساتھ میں، اپنے آپ کو پہچانتا ہوں۔
یہ لمحہ، یہ سکون، یہ خاموشی کی بات ہے،
No comments:
Post a Comment