ساحل پر موجوں کا سرور ہے،
ہر لہر میں ایک نیا رنگ بھر ہے۔
ریت کے ذرّوں میں چھپی کہانیاں،
ہر قدم پر دل کو لگتی ہیں تھپکیاں۔
ہوا کے جھونکے گیت گاتے ہیں،
ستاروں کی چھاؤں میں رات جگمگاتی ہے۔
سمندر کی گہرائیوں سے اٹھتی صدا،
یہ فطرت کا اپنا اندازِ سخن ہے۔
ساحل پر بیٹھ کر دل کھول دو،
ہر موج تمہارے دل کی بات کہے گی۔
یہ دریا، یہ ریت، یہ آسمان کی وسعتیں،
شاعری کے لیے ایک نئی دنیا لے کر آئیں گی۔
No comments:
Post a Comment