ساحل کی ریت پہ چاندنی بکھری ہوئی ہے،
ہر ذرہ چمک رہا ہے جیسے ستارہ ٹوٹا ہو۔
لہروں کی موسیقی دل کو چھو رہی ہے،
ہر موج ایک نغمہ، ہر صدا ایک سرگوشی۔
ریت کے ذرات میں چھپی ہیں کہانیاں پرانی،
ہر قدم پہ ملتا ہے ایک نیا راز۔
سمندر کی گہرائیوں سے اٹھتی ہے سدا،
یہ ریت بھی تو ہے دریا کی محبت کا سہرا۔
پاؤں تلے یہ ریت مٹی کی طرح نرم،
جیسے وقت کے ہاتھوں نے چھوا ہو اسے۔
ہر دانہ ایک یاد، ہر ذرہ ایک خواب،
ساحل کی ریت پہ زندگی کا ہر رنگ جھلکتا ہے۔
یہ ریت بے زبان ہے مگر بولتی ہے،
سمندر کے سینے سے لگی ہوئی ہے۔
ساحل کی ریت پہ چلنا ہے تو سن لو،
ہر قدم پہ ملے گی ایک نئی داستان۔
ساحل کی ریت پر گر کچھ لکھو،
ہر لفظ میں سمندر کی گہرائی سما جائے۔
یہ ریت ہے تو دریا کی محبت کا نشان،
ہر ذرہ چمکے گا جیسے چاند کی کرن۔
No comments:
Post a Comment