صحرا کا چاند، اُفق پہ جھکا ہوا،
جیسے ویرانوں کا دل تڑپا ہوا۔
رات کی چادر میں جگمگاتا رہے،
تنہائیوں کا ساتھ نبھاتا رہے۔
ریت کے سمندر پہ تیرتا سا نظر آئے،
جیسے خوابوں کا جہاز بہتا چلا جائے۔
ٹھنڈی کرنیں، دل کو چھو جائیں،
جیسے کسی یاد کی لہر دل میں اتر آئے۔
صحرا کی خاموشی، چاند کی روشنی،
مل کر بن جائیں اک عجب کہانی۔
ہر ذرہ ریت، چمکتا ہوا ستارہ،
جیسے فضا میں بکھری ہوئی نظارہ۔
چاندنی میں ڈوبا ہوا صحرا کا منظر،
جیسے کسی شاعر کا خواب ہو بے خبر۔
ہر طرف سکوت، ہر طرف خامشی،
صرف دل کی دھڑکن، صرف تیری یادوں کی روشنی۔
صحرا کا چاند، تو ہے میرا ہمدم،
تیری چاندنی میں ڈوب جائے میرا عالم۔
تیرے سائے میں پاتا ہوں میں سکون،
جیسے مل جائے کھویا ہوا خوابوں کا مقام۔
رات گزرتی جائے، چاند ڈھلتا جائے،
صحرا کی وسعتیں، دل کو بہلاتی جائے۔
تیری روشنی میں ڈھونڈتا ہوں میں اپنا وجود،
صحرا کا چاند، تو ہے میرا ہمدم، میرا ہم سفر۔
No comments:
Post a Comment