وفا کے قیدی ہیں ہم، اس زنداں میں خوش آئے
یہ زنجیریں ہیں ہمارے لیے گلہائے رعنائی
ہر اک لمحہ وفا کا، ہر اک پل عہدِ وفا
یہی ہے زندگی، یہی ہے مری رہنما
چراغِ عشق ہے روشن، ہوا چلے نہ بجھے
وفا کی راہ میں ہر درد سہہ لیں گے ہم
یہ دل ہے کہ وفا کا دیوانہ ہے
ہر اک سانس میں وفا کا فسانہ ہے
نہ کوئی منزل ہے، نہ کوئی انتہا ہے
وفا ہی راستہ ہے، وفا ہی منزل ہے
ہر اک درد کو گلے لگاتے ہیں
وفا کے نام پہ سب کچھ قربان کرتے ہیں
وفا کا قیدی ہوں، یہی میری پہچان ہے
ہر اک لمحہ وفا کا، ہر اک سانس وفا کا نام ہے
یہ زنداں بھی ہے اک جنت، جہاں وفا کی خوشبو بسی ہے
ہر اک دیوار سے عشق کی داستاں سنائی دیتی ہے
وفا کے بندھن میں آزادی کا احساس ہے
یہ قید ہی نہیں، یہ تو اک اعزاز ہے
ہر اک آنسو میں چھپی ہے اک مسکراہٹ
ہر اک درد میں ملتی ہے اک نئی راہ
وفا کے قیدی ہیں ہم، اس زنداں میں خوش آئے
یہ زنجیریں ہیں ہمارے لیے گلہائے رعنائی
وفا کا قیدی ہوں، یہی میری پہچان ہے
ہر اک لمحہ وفا کا، ہر اک سانس وفا کا نام ہے۔
No comments:
Post a Comment