**انقلاب کا سفر**
یہ راستہ ہے ظلمت کے جنگل کا،
ہر قدم پہ خاروں کی چبھن ہے۔
مگر اس کے پار ایک دنیا ہے،
جہاں روشنی کا سکہ چلتا ہے۔
ہر زنجیر توڑنے کا وقت ہے،
ہر غلامی کو مٹانے کا دن ہے۔
ابھی خوابوں کی تعبیر باقی ہے،
ابھی انقلاب کا سورج نکلنا ہے۔
کبھی رات نے ڈرایا ہے ہمیں،
کبھی طوفانوں نے آزمایا ہے۔
مگر ہر طوفان کے بعد،
سکون کی ایک نئی صبح آئی ہے۔
یہ خون پسینے کی داستان ہے،
یہ جذبے، یہ ارمانوں کی کہانی ہے۔
ہر آنسو، ہر مسکراہٹ،
انقلاب کی ایک نئی نشانی ہے۔
نہ ڈرو، نہ تھکو، نہ رکو،
یہ راستہ منزل تک جاتا ہے۔
ہر قدم پر ایک نئی کہانی،
انقلاب کا سورج چمکتا ہے۔
جب ظلم کی چادر تار تار ہو گی،
جب جبر کی دیواریں گر جائیں گی۔
تو پھر آزادی کے گیت گائیں گے،
اور نئے دن کا سورج لائیں گے۔
یہ انقلاب صرف ایک لفظ نہیں،
یہ جذبہ ہے، یہ عزم ہے، یہ راستہ ہے۔
یہ ہر دل کی دھڑکن ہے،
یہ ہر آنکھ کا خواب ہے۔
No comments:
Post a Comment