جدائی کا غم دل کو ستاتا ہے ہر دم،
یہ درد کبھی کم نہیں ہوتا، بس کم ہوتا ہے۔
ہوا کے دوش پر اڑ گئے وہ لمحے سب،
جو ساتھ تھے، وہ اب خواب بن کے رہ گئے۔
چراغِ دل بجھا، اندھیروں نے گھیر لی،
یہ دوری کا سماں، دل کو کچھ کہے دے رہا ہے۔
کبھی ہم تھے ساتھ، کبھی راستے جدا ہوئے،
یہ زندگی ہے، یہاں ہر کوئی اپنے لیے جیے۔
پر دل کی گہرائیوں میں ایک تڑپ باقی ہے،
وہ یادوں کا سلسلہ جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
جدائی کا غم، یہ ایک ایسا دریا ہے،
جو بہتا ہے تو دل کو بہا لے جاتا ہے۔
کاش! کوئی راہ ہو ملن کی، کوئی منزل ہو،
جہاں پھر سے وہ لمحے، وہ سکون وہ قربت ہو۔
پر وقت کے سفر میں یہ خواب ہی رہ جاتے ہیں،
جدائی کا غم، یہی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔
No comments:
Post a Comment