**آکاش کے پار**
بہت دور کہیں آکاش پر،
ستاروں کی چمک، خاموش سفر۔
وہاں کون سنتا ہے دھڑکن میری،
کون دیکھتا ہے آنکھوں کے تارے؟
ہوا کے جھونکوں میں چھپا ہے کوئی،
کہانیاں پرانی، خواب نئے۔
چاندنی چادر بچھی ہے وہاں،
تنہائی بھی ہے، مگر ہے گہاں۔
کبھی تو وہاں سے کوئی آئے،
میرے دل کی زبان سمجھائے۔
بہت دور کہیں آکاش پر،
میں بھی اڑوں، یوں خالی ہو سفر۔
No comments:
Post a Comment