زندگی ادھار ہے، یہ سفر تھوڑی دیر کا،
ہر خوشی پل بھر ہے، ہر غم ہے گہرا۔
کبھی ہنستے ہیں، کبھی آنسو بہتے ہیں،
یہ دھوپ چھاؤں کا کھیل ہے، جیسے سہرا۔
ہم سب راہی ہیں، منزل ہے ایک سی،
کوئی جیتا ہے، کوئی ہارا۔
دن ڈھلے گا، شام آئے گی، پھر سویرا ہوگا،
یہ وقت کا پہیا ہے، بار بار کا پیارا۔
جو ملا، وہی قسمت تھی اپنی،
جو گیا، وہ بھی تھا راستے کا سہارا۔
زندگی ادھار ہے، گزار لو اسے،
ہر لمحہ سنوار لو، یہی ہے اشارہ۔
✨
No comments:
Post a Comment