**وقت کی دوڑ**
اے وقت پیچھے دوڑ ذرا، رک جا تھوڑا سا،
کچھ لمحے اور دے دے، وہ بچپن کے کھلنڈرے سا۔
وہ صبح کی دھوپ تھی، چہچہاتی چڑیائیں تھیں،
ماں کے ہاتھ کی روٹی، بھائیوں کی شرارتیں تھیں۔
اب تو ہر پل بھاری ہے، ہر سانس میں دھواں ہے،
جینے کا حوصلہ بھی، مگر دل میں دکھتا ہے۔
وقت کے ہاتھوں مجبور، ہم سب کی کہانی ہے،
پیچھے مڑ کے دیکھو تو، ہر اک بات افسانہ ہے۔
دوڑتا رہتا ہے وقت، نہ تھمتا ہے نہ رکتا ہے،
ہم بھی ساتھ دوڑتے ہیں، پر کچھ چیز چھوٹ جاتی ہے۔
اے وقت! تو اگر چلے تو چل، مگر یاد رکھ،
ہم نے بھی تیرے ساتھ میں، کتنے خواب سجائے تھے۔
No comments:
Post a Comment