**وہ دنیا سے جا چکا مگر اس کی یاد باقی ہے**
وہ چلا گیا ہے مگر یادوں کے دھندلکے میں،
ابھی تک گونجتی ہے اس کی باتوں کی چھنک میں۔
کبھی ہنس کے جو کہتا تھا مجھے پیار سے،
وہ لہجہ سا بسا ہے ہر اک خمار سے۔
وہ گھڑی بھی گزری، وہ لمحے بھی گزرے،
مگر دل کی گہرائیوں میں وہ چھن کے رہ گزرے۔
نہیں وہ مگر اس کی یادیں ہیں ساتھ ہمیشہ،
جیسے خوشبو ہو کسی پھول کی، بے جسم و بیشہ۔
وہ دنیا سے جا چکا، مگر یادوں کے سائے،
اب بھی زندہ ہیں میرے دل کی ہر اک رہگزر میں۔
No comments:
Post a Comment