Translate

Darkness

 زندگی کی شام ہوئی جاتی ہے،  

دل پہ اک دھند سی چھا جاتی ہے۔  


کتنی خواہشیں تھیں جو مر گئیں،  

رات آنکھوں میں سماجاتی ہے۔  


ہجر کے اندھیرے گھنے ہوئے،  

یادوں کی شمع بجھا جاتی ہے۔  


اب تو ہر سانس میں درد اٹھے،  

زخم دل کرپھر سے جلا جاتی ہے۔  


 اک عمر گزر گئی، سہتے ہوئے

اب تو تنہائی بھلا چاہتی ہے۔


شمائلہ خان

No comments:

Post a Comment

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *