دشتِ راہ میں حائل کوئی منزل نہیں ہے
رات کے سائے ہی سائے، راہ میں اک سیل نہیں ہے
چلنے والا ہوں میں تنہا، میرے ہمسفر کہاں
یہ جو کھویا ہوا ہوں، اس کا کوئی سبب نہیں ہے
ہر قدم پر تھکن ہے، ہر سفر نامکمل ہے
میرا اپنا ہی سایہ، میرا اپنا ہی حَسب نہیں ہے
دل کے زخم ہیں پرانے، نیا درد بھی ملا
اب تو اس شہرِ خموشی میں بھی کوئی وَحشَت نہیں ہے
رات بھر گرتی رہی آنکھوں پہ گردِ غمِ جاناں
اب تو اس دھوپ میں بھی کوئی سایۂ شب نہیں ہے
اب تو تیرے بغیر بھی کوئی اضطراب نہیں ہے
No comments:
Post a Comment