سردی کی شام
ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا،
دل کو چھو کر گزر گیا۔
کہیں دھواں سا اٹھ رہا تھا،
چولہے پہ چائے پک رہا تھا۔
کمبل میں لپٹی اک کہانی،
کتنے خواب جگا گئی۔
بارش کی بوندوں نے چپکے،
یادوں کو پھر سے سجا گئی۔
دھوپ سنہری گم ہوئی ہے،
دھند نے سب منظر ڈھک دیے۔
سردی کی شام نے چپکے سے،
وقت کے گانے رک دیے۔
No comments:
Post a Comment