دروازۂ علم
استاد!
آپ نے سوچ کے در کھول دیے،
اندھیروں کو اجالوں میں ڈھال دیا۔
یہ دماغ جو مقفل تھا،
آپ نے اس پر دستک دی،
اور علم کی روشنی کو اندر اتار دیا،
ہر سوال کا جواب ملا،
ہر خواب کو تعبیر ملی،
آپ ہی نے ذہن کے قفل توڑ کر
حیات کو تعبیرِ نو عطا کی۔
شمائلہ خان
No comments:
Post a Comment