عنوان: میرے استاد**
وہ راہِ علم کا چراغ تھے، وہ میرے استاد تھے
میں شمعِ ضیا اور، وہ میرے استاد تھے
جب زندگی کے بحرِ بیکراں میں تھی کشتی
وہ ماہِررہنما تھے، وہ میرے استاد تھے
الفاظ ان کے موتی تھے، علم ان کا خزانہ تھے
جو میرے دل کا غم جانتے،وہ میرے استاد تھے
نہ صرف کتابوں کے سبق سکھائے انہوں نے
زمانے کے سبق سکھانے والے میرےاستاد تھے
بنایا انہوں نے مجھ کو ایک انسان اچھا
سکھایا احترام،سکھائی محبت بے حساب
کبھی ڈانٹ، کبھی پیار، کبھی شفقت کی بارش
ہر اک طرح سے سنوارنے والے استاد تھے
وہ ہر قدم پہ دے گیا، جو علم کی روشنی
وہ زندگی بھر کے لیے میرے استاد تھے
شمائلہ خان
No comments:
Post a Comment