سردی کی شام
سردی کی نرم سی یہ شام،
تُو یاد آیا، ہوا بھی مدھم۔
چائے کی خوشبو، خوابوں کا رنگ،
دل نے کہا، تُو پاس ہی ہے کہیں۔
دھند میں چہرہ ترا جھلکتا،
چاند بھی جیسے مسکراتا۔
کمبل میں لپٹا خیال تیرا،
دل کو پھر سے بہکاتا۔
سرد ہوا میں تیری خوشبو،
ہونٹوں پہ نام ترا آیا۔
یہ شام، یہ تنہائی، یہ دل،
بس تیرا ہی قصہ سنایا۔
Wah wah
ReplyDelete