Translate

To return

 چار دن کا ہے بسیرا

پھر لوٹ جانا ہے

مٹی میں مل کر

مٹی ہو جانا ہے


یہ جسم ہے برتن

خالی ہو جانا ہے

یہ سانس ہے قرضہ

واپس ہو جانا ہے


نہ کوئی راہ تیری

نہ کوئی راہ میری

اک سفر ہے سب کا

ختم ہو جانا ہے


جو آیا ہے دنیا میں

اک دن جانا ہے

یہی دستور ہے

یہی ہو جانا ہے


شمائلہ خان

My surroundings

 تمہیں کیا خبر تھی کہ میرا محیط کیا ہے

تمہیں تو رہی، میری روانی! کدھر کیا ہے


تمہیں تو فکر تھی کہ میرا ربط کیا ہے

تمہیں تو تھی کہ، میری زندگانی کیا ہے


تمہیں تو مگر تھی، کہ میرا ضبط کیا ہے

تمہیں تو تھی، میری کہانی! کیا ہے


تمہیں کیا خبر تھی کہ میرا خبط کیا ہے

تمہیں تو تھی بس اپنی جوانی کیا ہے


تمہیں کیا اثر کہ ،میری وجد  کیا ہے


تمہیں تو تھی ، میری پہچانی کیا ہے


شمائلہ خان

Let's talk a little.

 ایسا کرتے ہیں کہ

کچھ ان کہی بات 

رکھ لیتے ہیں 

جو سنی نہیں دھن

وہ ساز رکھ لیتے ہیں

اور ٹہرو تو !!!!!

کچھ گزرے تھے 

وہ لمحات رکھ لیتے ہیں

درمیان رکھ کر اپنے

چائے کے کپ اور مشاعرہ

اپنے سارے جذبات رکھ لیتے ہیں 


شمائلہ خان

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *