چار دن کا ہے بسیرا
پھر لوٹ جانا ہے
مٹی میں مل کر
مٹی ہو جانا ہے
یہ جسم ہے برتن
خالی ہو جانا ہے
یہ سانس ہے قرضہ
واپس ہو جانا ہے
نہ کوئی راہ تیری
نہ کوئی راہ میری
اک سفر ہے سب کا
ختم ہو جانا ہے
جو آیا ہے دنیا میں
اک دن جانا ہے
یہی دستور ہے
یہی ہو جانا ہے
شمائلہ خان
No comments:
Post a Comment