تمہیں کیا خبر تھی کہ میرا محیط کیا ہے
تمہیں تو رہی، میری روانی! کدھر کیا ہے
تمہیں تو فکر تھی کہ میرا ربط کیا ہے
تمہیں تو تھی کہ، میری زندگانی کیا ہے
تمہیں تو مگر تھی، کہ میرا ضبط کیا ہے
تمہیں تو تھی، میری کہانی! کیا ہے
تمہیں کیا خبر تھی کہ میرا خبط کیا ہے
تمہیں تو تھی بس اپنی جوانی کیا ہے
تمہیں کیا اثر کہ ،میری وجد کیا ہے
تمہیں تو تھی ، میری پہچانی کیا ہے
شمائلہ خان
No comments:
Post a Comment