اے دلِ مضطرب! کسی پل تو کہیں ٹہر
کوئی تو پل ترے دھڑکنے کا انتظار کریں ہم
نہ تھمتی ہے یہ تڑپ، نہ رکتا ہے یہ سفر
کوئی تو منزلِ جاں گزار گزار کریں ہم
تری ہر چاپ پہ چراغِ وفا جلائے ہیں
کوئی تو رات تری راہ گزر کے پار کریں ہم
تری آواز پہ سمٹ آتے ہیں تمام خواب
کوئی تو خواب تری دید کے لیے تیار کریں ہم
بڑی صعوبت سے ملتی ہے چین کی کوکھ سے
وہ گھڑی جس میں تجھے اپنے کنار کریں ہم
ابھی اور تازہ ہوں درد کے تمام نشتر
ابھی اور خونِ جگر بار ہا بار کریں ہم
کسی اک لمحے کو ترا ہمسفر بنا لیں
کوئی تو لمحہ ترا لمحۂ قرار کریں ہم
No comments:
Post a Comment