پت جھڑ کی یادوں والی ہوا"
پتے گرتے ہیں دسمبر کے
سناٹے میں گُونج کے سا
کوئی دُور گاؤں کی بانسری
کوئی پرانی چُپ کی بولیاں
کوئی آنکھ میں سی کے سما
آتی ہے پت جھڑ کی ہوا
تِرپتی ہوئی شام کی طرح
کِسی بُکھے دیے کی لَو سی
کھُلے بند کھڑکی کے پاس
کھڑی سوچتی ہے کہ مرے
یہ کون سا گیت گا رہا؟
یہ گِرتے ہوئے رنگ بھی
کتنے عجیب ہیں یارو
زردی میں بھی شعلے ہیں
لالی میں بھی ٹھنڈ ہے
ہر راستہ اَڈیار سا
ہر سنگِرہ گِرجے سا
سو جب یہ ہوا چلے
تو اپنے گھر لوٹ آنا
چولھے پہ چائے رکھ لینا
دُھوپ میں کمبل تان لینا
یہ سردی بھی گزر جائے گی
یہ پتے بھی اُڑ جائیں گے
پھر نئے کنور پہ نکل آئے گی
کوئی کونپل—
کوئی نئی بہار کی مُنہ زُبان کلی
دسمبر کے برفاب سینے میں
پہلے سے ہی دھڑکتی ہے۔
No comments:
Post a Comment