الوداع دسمبر
سالِ رواں کی دھوپ جھلسا گئی
پلکوں پہ جو خواب تھے بکھر گئے
وہ راستے جو چن چن کے بنائے تھے
وہ منزلیں جو ذہن میں بسائی تھیں
کچھ دھندلا گئے،کچھ مٹ گئے
دسمبر کی یہ آخری شام ہے
کچھ چہروں پہ اداسی کا دھواں ہے
کچھ آنکھوں میں نئے سورج کا نور ہے
کچھ لمحے جو ہمارے ساتھ مر گئے
کچھ یادوں کے پھول ہیں،خوشبووں بھرے
سال کا سفر کچھ یوں ہی گزر گیا
کچھ لوگ بدل گئے،کچھ لوگوں نے ہمیں بدل دیا
کچھ رشتے نئے ہوئے،کچھ پُرانے ڈھل گئے
زخم بھرے تو نہیں،پر درد کے رنگ پھیکے پڑ گئے
الوداع دسمبر، تیری برف پگھلے گی
جنوری کی ہوا نئے پن کا گیت لائے گی
چلو اٹھیں اس خاک سے،جھاڑیں یہ دھولِ ماضی
نیا صفحہ ہو مانندِآئینۂ صاف
جس میں چہرہ ہمارا نئے عزم سے جگمگائے
الوداع دسمبر، تیرا اختتام ہے آغاز
زمانے کی یہ ریت ہمیشہ سے یونہی چلتی
بہہ جائیں گے لمحے،رہ جائیں گی یادیں
نئے سورج کو سلام کر کے چلیں گے ہم۔۔۔
No comments:
Post a Comment