دسمبر تو !
پھر آگیا
کھڑکی سے جھانکتا سرد ہوا کا سفر
پت جھڑ کے برگد کی آخری پتی گرے
کچھ یادوں کے قصے کچھ اداسی کے مارے
دسمبر تو !
پھر آگیا
راتوں کو لمبی سفید دھند چھا گئی
کچے انگاروں پہ خوابوں کی بنی کہانیاں
پرانی الماری میں خوابوں کی لپٹی چابیاں
دسمبر تو !
پھر آگیا
وہ گزرے ہوئے دنوں کی کتاب کھل گئی
ہر فصل کے مرنے پہ اگنے کا وعدہ ہے
دسمبر کے برفاب میں بسنت کی آہٹ ہے
دسمبر تو !
پھر آگیا
تنہائیوں میں بھی اک سازِ سحر بجتا ہے
وہ راستہ، وہ کوچہ، وہ پرانی دیواریں
اب بھی سناتی ہیں کہانیاں پرانی یادیں
دسمبر تو !
پھر آگیا
ٹوٹے ہوئے وعدوں کے پھول بھی مہکتے ہیں
ایک نئے سورج کی پہلی کرن چمکتی ہے
دسمبر کے سینے میں ہی بسنت کی دھڑکن دھڑکتی ہے
دسمبر تو!
پھر آگیا ـ ـ ـ
شمائلہ خان
No comments:
Post a Comment