محبت کی داستان
لحاظ باقی ہے، مروت باقی ہے
زمانے کی ہر آزمائش کے باوجود
یہ آتش رفتہ میں چنگاریاں ہیں
کہ اب بھی دلوں میں انسیت باقی ہے
نہ چھوٹی راہیں، نہ ٹوٹی بستیاں
کہ اب بھی ملتا ہے پانی کنویں کو
نظر میں اجنبی پہ رحمت باقی ہے
لحاظ باقی ہے، مروت باقی ہے
کٹھن ہیں راہیں، گہنے ہیں بادل
مگر کسی در پہ دستک دینے والا
نہیں ہے تنہا، نہیں ہے بے سہارا
کہ ہر قدم پر کوئی دعوت باقی ہے
یہ بند دروازے، یہ اونچی دیواریں
نہیں ہیں فاصلے دل سے دل کے واسطے
کہ آنکھ میں آنسو، ہونٹ پہ تبسم
یہی تو انسانیت باقی ہے
لحاظ باقی ہے، مروت باقی ہے
یہی تو زندگی کا سہارا ہے
کسی کی آنکھ میں آنسو دیکھ کر
جو دل میں اُتر جائے پیارا ہے
نہ ڈھونڈو ستارے آسماں کے پار
یہیں ہے جنت، یہیں ہے آرزو
کہ اب بھی انسان میں انسانیت
لحاظ باقی ہے، مروت باقی ہے
شمائلہ خان