محبت کے ابھی آثار باقی ہیں
محبت کے ابھی آثار باقی ہیں
نظر ہی میں چمک اور پہچان باقی ہے
دلوں کے دَرِ گم گشتہ پر لکھی ہے
کسی کے انتظار کی داستان باقی ہے
کٹی ہوئی رسی کے ٹکڑوں میں بھی
لپیٹی ہوئی کوئی اُمید باقی ہے
کھنڈر سے اُٹھتی دھویں کی لکیروں میں
کسی دیے کی خوشبؤئیں باقی ہیں
سنا ہے جنگلوں میں راہیں بھٹکتی ہیں
مگر مسافروں کے قدم میں ترنم باقی ہے
سنا ہے دریا خشک ہو گئے ہیں
مگر کناروں پر ساون کے گیت باقی ہیں
یہ بے رُخی، یہ بے حسی کا موسم
چھپائے کچھ نہیں سکتا حقیقت کو
کہ دھوپ اور چھاؤں کے بیچ میں اب بھی
محبت کے ابھی آثار باقی ہیں
No comments:
Post a Comment