Translate

The hope of spring is alive.

 "بہار کی امید ہے"


وہ جو یخ بستہ ہوا میں کانپتی تھی کلی

اب اس کے ہونٹوں پہ گنگناتا ہے کوئی راگ

زمستان کی لمبی رات نے چھوا تو سہی

پر اس کی آنکھوں میں پگھلتے ستاروں کا دھواں

اور سلگتے خوابوں کی حرارت باقی ہے


یہ ویران درخت، یہ فضا خاموش کیوں؟

کہ ہر ڈالی کے اندر ندی بہتی ہے اب بھی

کہ ہر سوئے بیج میں جنگل اُگتا ہے اب بھی

صبر کے تاروں سے بُنا ہوا ہے ہر اُداس شام

اور صبح کی روشنی کا پہلا وعدہ


اک ایسا موسم بھی آئے گا

جب خالی پنجروں سے مٹ جائیں گی زنگ آلودہ زنجیریں

جب ویران گھروں کی چھتوں پہ

نئے گھونسلے بنیں گے مٹیالے پروں کے

جب چپ چاپ گزرنے والے مسافروں کے ہاتھوں میں

پیلے پھولوں کا تحفہ ہوگا


میں جانتا ہوں

کہ بھیگی ہوئی مٹی کی خوشبو

کبھی نہ کبھی تو آئے گی

کہ جمے ہوئے یخ کے نیچے

دریا کی دھڑکن تیز ہے

کہ ہر زخم کے اندر

شفا کے پھول کھلتے ہیں وقت کے ساتھ


تو پھر کیوں ڈر ہے

ایک بار پھر کلیوں کے کھلنے سے

جب ہواؤں کے ہاتھوں میں لوریوں کا سُر ہے

جب ہر کھیت کی مٹی میں اُگے گی سنہری فصل

تب تو اک نئے چاند کا جنم ہوگا

اور میں

اپنی کھڑکی کے شیشے پہ لکھوں گا:

"بہار کی امید ہے"

No comments:

Post a Comment

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *