**بہت دن گنوائے انتظار میں**
بہت دن گنوائے انتظار میں،
آؤ! آگے بڑھ کر دیکھ لیں۔
خواب جو دل میں پلتے رہے،
انہیں حقیقت میں ڈھلتے دیکھ لیں۔
رستے کٹھن ہوں، خوف بھی ہو،
ہمت کے دیپ مگر جلتے دیکھ لیں۔
کل کی فکر میں جو کھو گئے،
آج کو پھر سنبھلتے دیکھ لیں۔
وقت کسی کا رکتا نہیں،
قدم سے قدم ملتے دیکھ لیں۔
منزل خود آواز دے گی،
بس حوصلوں کو چلتے دیکھ لیں۔
مایوسی کے بادل چھٹ جائیں گے،
امید کے سورج نکلتے دیکھ لیں۔
بہت دن گنوائے انتظار میں،
آؤ! آگے بڑھ کر دیکھ لیں۔
شمائلہ خان
No comments:
Post a Comment