ایسا کرتے ہیں کہ
کچھ ان کہی بات
رکھ لیتے ہیں
جو سنی نہیں دھن
وہ ساز رکھ لیتے ہیں
اور ٹہرو تو!!!!!
کچھ گزرے تھے
وہ لمحات رکھ لیتے ہیں
درمیان رکھ کر اپنے
چائے کے کپ اور مشاعرہ
اپنے سارے جذبات رکھ لیتے ہیں
کچھ خواب ادھورے
رکھ لیتے ہیں دل میں
جو بکھرے نہیں رات
وہ تارے رکھ لیتے ہیں
کچھ راستے ٹوٹے
رکھ لیتے ہیں ہاتھوں میں
جو ملی نہیں منزل
وہ سفر رکھ لیتے ہیں
کچھ نام بے آواز
رکھ لیتے ہیں ہونٹوں پر
جو ادا نہ ہوئے
وہ دعا رکھ لیتے ہیں
کچھ دھوپ چن لیتے ہیں
بارش کے قطرے سے
جو ملی ہے خلوت
وہ سحر رکھ لیتے ہیں
(شمائلہ خان)
No comments:
Post a Comment