Translate

Forms of life

  


زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے

کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے


کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے

کبھی چھاؤں بن کے خوابوں کے نگر پلتے رہے


کبھی راہ میں کانٹے تھے، کبھی خوشبوؤں کا سفر

ہم مگر امید لے کر ہر قدم چلتے رہے


کبھی اپنوں کی محفل میں بھی تنہا ہم ہی تھے

کبھی اجنبی بھی آ کر زخم اپنے سلتے رہے


یہی درس دے گئی آخر ہمیں گردشِ حیات

جو بھی لمحے ملے ، شکر کرکےملتےرہے

  

شمائلہ خان 

The dream is dead.

 میں جاگ رہی ہوں مگر

میرے خواب گئے مر


آنکھوں میں نمی ٹھہری ہے

دل میں ہے کوئی ڈر


یادوں کی ہوا چلی تو

دل ہو گیا پھر تر


چاند بھی اکیلا سا ہے

تارے ہیں بے اثر


لوگوں کی اس بستی میں

ہر شخص ہوا بے خبر


دل ڈھونڈے وہی چہرہ

جو چھوڑ گیا یہ گھر


میں جاگ رہی ہوں مگر

میرے خواب گئے مر


شمائلہ خان

The love story remains.

 محبت کی داستان


لحاظ باقی ہے، مروت باقی ہے

زمانے کی ہر آزمائش کے باوجود

یہ آتش رفتہ میں چنگاریاں ہیں

کہ اب بھی دلوں میں انسیت باقی ہے


نہ چھوٹی راہیں، نہ ٹوٹی بستیاں

کہ اب بھی ملتا ہے پانی کنویں کو

نظر میں اجنبی پہ رحمت باقی ہے

لحاظ باقی ہے، مروت باقی ہے


کٹھن ہیں راہیں، گہنے ہیں بادل

مگر کسی در پہ دستک دینے والا

نہیں ہے تنہا، نہیں ہے بے سہارا

کہ ہر قدم پر کوئی دعوت باقی ہے


یہ بند دروازے، یہ اونچی دیواریں

نہیں ہیں فاصلے دل سے دل کے واسطے

کہ آنکھ میں آنسو، ہونٹ پہ تبسم

یہی تو انسانیت باقی ہے


لحاظ باقی ہے، مروت باقی ہے

یہی تو زندگی کا سہارا ہے

کسی کی آنکھ میں آنسو دیکھ کر

جو دل میں اُتر جائے پیارا ہے


نہ ڈھونڈو ستارے آسماں کے پار

یہیں ہے جنت، یہیں ہے آرزو

کہ اب بھی انسان میں انسانیت

لحاظ باقی ہے، مروت باقی ہے


شمائلہ خان

Love remains.

 محبت کے ابھی آثار باقی ہیں


محبت کے ابھی آثار باقی ہیں

نظر ہی میں چمک اور پہچان باقی ہے

دلوں کے دَرِ گم گشتہ پر لکھی ہے

کسی کے انتظار کی داستان باقی ہے


کٹی ہوئی رسی کے ٹکڑوں میں بھی

لپیٹی ہوئی کوئی اُمید باقی ہے

کھنڈر سے اُٹھتی دھویں کی لکیروں میں

کسی دیے کی خوشبؤئیں باقی ہیں


سنا ہے جنگلوں میں راہیں بھٹکتی ہیں

مگر مسافروں کے قدم میں ترنم باقی ہے

سنا ہے دریا خشک ہو گئے ہیں

مگر کناروں پر ساون کے گیت باقی ہیں


یہ بے رُخی، یہ بے حسی کا موسم

چھپائے کچھ نہیں سکتا حقیقت کو

کہ دھوپ اور چھاؤں کے بیچ میں اب بھی

محبت کے ابھی آثار باقی ہیں

The hope of spring is alive.

 "بہار کی امید ہے"


وہ جو یخ بستہ ہوا میں کانپتی تھی کلی

اب اس کے ہونٹوں پہ گنگناتا ہے کوئی راگ

زمستان کی لمبی رات نے چھوا تو سہی

پر اس کی آنکھوں میں پگھلتے ستاروں کا دھواں

اور سلگتے خوابوں کی حرارت باقی ہے


یہ ویران درخت، یہ فضا خاموش کیوں؟

کہ ہر ڈالی کے اندر ندی بہتی ہے اب بھی

کہ ہر سوئے بیج میں جنگل اُگتا ہے اب بھی

صبر کے تاروں سے بُنا ہوا ہے ہر اُداس شام

اور صبح کی روشنی کا پہلا وعدہ


اک ایسا موسم بھی آئے گا

جب خالی پنجروں سے مٹ جائیں گی زنگ آلودہ زنجیریں

جب ویران گھروں کی چھتوں پہ

نئے گھونسلے بنیں گے مٹیالے پروں کے

جب چپ چاپ گزرنے والے مسافروں کے ہاتھوں میں

پیلے پھولوں کا تحفہ ہوگا


میں جانتا ہوں

کہ بھیگی ہوئی مٹی کی خوشبو

کبھی نہ کبھی تو آئے گی

کہ جمے ہوئے یخ کے نیچے

دریا کی دھڑکن تیز ہے

کہ ہر زخم کے اندر

شفا کے پھول کھلتے ہیں وقت کے ساتھ


تو پھر کیوں ڈر ہے

ایک بار پھر کلیوں کے کھلنے سے

جب ہواؤں کے ہاتھوں میں لوریوں کا سُر ہے

جب ہر کھیت کی مٹی میں اُگے گی سنہری فصل

تب تو اک نئے چاند کا جنم ہوگا

اور میں

اپنی کھڑکی کے شیشے پہ لکھوں گا:

"بہار کی امید ہے"

New Year

 آنے والا نیا سال 

آپ کیلئے 

خوشیوں اور

مسرتوں کا 

پیغام بن کر

آئے

سدا بہار 

رہے آنگن میں

کوئی پھول 

کبھی نہ

مرجھائے 

چہرے دمکتے

رہیں !! 

ہر پل ہر لمحہ 

ہر گھڑی 

مسرتوں کا 

ڈیرہ رہے

میری دعائیں 

آپ کیلئے 

ہمیشہ گلدستہ 

بن کرسجی

رہیں


شمائلہ خان 

آمین ثم آمین یارب العالمین

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *