مکافات کی چکی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر محاسبہ پر اپنے
ہوتا سوال خود سے
میرے کرم کا کیسا
ملا مجھ کو انعام ہے
ہر الم پر ٹٹولا خود کو
ہر ستم پر جھنجھوڑا !
میرے مالک میں نے
یہ نہ پوچھا کسی سے
ایسا ہوا کیا جو پہاڑ
یہ ٹوٹے سبھی مجھ پر
نہ کبھی آسماں گرا !
اور نہ لرزہ اٹھا زمیں پر
اڑانے کی ہنسی میں
کچھ عادت سی ہوگئی
ہر کوئی سمجھتا ہے کہ
یہ میرے ہی کسی کرم کا
لگتا ہے کوئی شاخسانہ
پر میرے مالک!!!!!!!
تو؛تو سب جانتا ہے
ہر حال کامرے واقف کار
اک ذات بس تری ہے۔
جو سب دیکھتی ہے
میرے صبر کی آزمائش
میری ہمت کی جانچ
مولا!!! میرے یہ آنسو
مولا!! میرے یہ سجدے
مولا! میری خاموشی
اب درد بھی چیختا ہے
یہ دیکھ کر میری ڈھٹائی
تکلیف بھی روتی ہے
انتہائے برداشت دیکھ کر
مولا!! یہ تو ٫ تو جانتا ہے
یہ صرف تیری رضا کی خاطر
مجھے اور کچھ طلب نہیں
بس اس طلب کے سوا
Nice
ReplyDeleteThank you so much
ReplyDelete