رات کے سناٹے میں تیری یاد، ستاروں سے بات کرتی ہے
دل کی گہرائیوں میں تیرا خیال، موج بن کر اُچھلتا ہے
تیرے بغیر ہر لمحہ، اک عذاب سا لگتا ہے
تیری محبت کی چھاؤں میں، دل کو سکون ملتا ہے
یادوں کے دشت میں تیرا نقش، ہر سو بکھرا ہوا ہے
تیرے بغیر زندگی، اک اداس سفر لگتا ہے
شام ڈھلے تیری یاد آئی، دل پھر بےقرار ہو گیا
رات کے سائے میں تنہائی، اک نئے انداز میں ڈھل گیا
تیری آنکھوں کی گہرائی میں، دل ڈوبتا چلا گیا
تیرے ہونٹوں پہ مسکراہٹ، دل کو اپنا بنا گیا
تیرے قدموں کی آہٹ سے، دل کی دھڑکن تیز ہو گئی
تیری محبت کی چھاؤں میں، زندگی نے رنگ بدلے
تیرے بغیر ہر لمحہ، اک سزا سا لگتا ہے
تیری یادوں کے سائے میں، دل کو تسلی ملتی ہے
رات کے سناٹے میں تیری یاد، ستاروں سے بات کرتی ہے
دل کی گہرائیوں میں تیرا خیال، موج بن کر اُچھلتا ہے
No comments:
Post a Comment