**کہاں چل دیئے**
کہاں چل دیئے وہ لوگ، جو تھے ہمارے ساتھ،
دلوں میں بسے تھے، جیسے کوئی خوابوں کا ساتھ۔
راستے بدل گئے، منزلیں رہ گئیں ادھوری،
یادوں کے دھندلکوں میں کھو گئی ہر کہانی۔
کبھی ہنس کے بولتے تھے، کبھی خاموشی چھا جاتی،
اب وہ لمحے بھی گزر گئے، جیسے ہوا میں گم ہو جاتی۔
کہاں چل دیئے وہ دن، وہ راتیں، وہ باتیں،
زمانہ بدل گیا، مگر دل کی تڑپ نہ جاتی۔
چلو، اب بھی یادوں کے سہارے جی لیتے ہیں،
دلوں میں بسائے ہوئے لوگوں کو پیار دیتے ہیں۔
کہاں چل دیئے وہ، یہ سوال رہ جاتا ہے،
مگر زندگی کا سفر تو اب بھی چلتا رہتا ہے۔
وہ راستے، وہ نشانیاں، وہ چہرے، وہ جگہیں،
سب کچھ تو ہے مگر نہیں ہیں وہی پہلے والی سیہیں۔
وقت کے ساتھ سب بدل گیا، مگر دل کی گہرائیوں میں،
وہ یادیں زندہ ہیں، جیسے کوئی چراغ جلتی ہوئی۔
کبھی کبھی خیال آتا ہے، کاش وہ لوٹ آئیں،
وہ مسکراہٹیں، وہ باتیں، وہ لمحے دوبارہ آئیں۔
مگر زندگی تو بہتی ندی ہے، پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتی،
ہمیں بھی چلنا ہے، نئے خوابوں کو سینے سے لگا کر۔
— شمائلہ خان ----
No comments:
Post a Comment