اندھیرے میں بھٹکتے ہیں، راستہ نہیں ملتا،
ہر سمت گھٹا ٹوپ ہے، چراغ نہیں جلتا۔
مگر دل کے اندر اک امید کی کرن،
یہ کہتی ہے مجھ سے، ابھی منزل کھوجتا۔
تھک کر بیٹھ جانا، تو ہار مان لوگے،
اٹھو اور چلو، تو ستارے چن لوگے۔
خدا کے فضل سے ہر مشکل آسان ہے،
یہی سوچ کر چلو، ہر آزمائش آسان ہے۔
تو ڈر کو اپنے دل سے نکال باہر کر،
یہ زندگی ہے، اسے جینے کا ہنر سیکھ کر۔
خدا ہر لمحہ تمہارے ساتھ ہے،
تمہاری ہر دعا کو وہ سنتا ہے۔
امید کی کرن کو ہمیشہ زندہ رکھو،
خود کو کبھی مایوس نہ ہونے دو۔
زندگی کے سفر میں ہر قدم پر روشنی ہے،
بس یقین رکھو، خدا کی رحمت بے انتہا ہے۔
No comments:
Post a Comment